پتھر پتیاں اور پھولوں کے ساتھ

راستے بہت کچھ سکھاتے ہیں. پھر چاہے وہ زندگی کے سفر کے ہوں یا پھر سڑک ک راستے ہوں. اب اس سڑک
سے لگے جاگنگ ٹریک کو ہی دیکھ لیں. یہاں سے اکثر میرا گزر ہوتا ہے. زندگی کی سفر کے بہت سے راستوں کی طرح جنہیں آپ کو اکیلا ہی طے کرنا ہوتا ہے اس راستے سے بھی میں اکثر اکیلے ہی گزرتی ہوں. مگر مجھے یہ ناگوار نہیں گزرتا. بلکہ اگر یہ کہوں کہ میں اس کا لطف اٹھاتی ہوں تو جھوٹ نہ ہوگا. میرا ماننا ہے کہ انسان کو دن کے کچھ گھڑیاں صرف اپنے ساتھ ہی گزارنی چاہیے شور شرابے سے دور صرف اپنی آواز سننے کے لیے

یہ جاگنگ ٹریک بھی بڑا ہی خوبصورت ہے. میلوں دور پھیلا یہ ٹریک شہر کی بڑی سڑک کے ساتھ کنارے کنارے چلتا ہے. جہاں سے میری چہل قدمی شروع ہوتی ہے, وہاں صرف پتھر کے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں. پھر کچھ آگے چلنے پر گھاس نظر آنی شروع ہوتی ہیں, تھوڑا آگے بڑھو تو گلابی پھول نظر آنے لگتے ہیں, پھر بنا کسی ترتیب یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے. کہیں پھول زیادہ ,کہیں گھاس زیادہ, کہیں صرف چٹیل زمین, تو کہیں سلیقے سے لگے ہوئے ٹائلس

ایسا لگتا ہے کہ جیسے پتھر گھاس اور پھول آنکھ مچولی کھیل رہے ہو. کبھی کبھی میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ شاید اگر اس پورے ٹریک پر صرف پھول ہی ہوتے تو منظر اتنا حسین نہ ہوتا پھولوں کا دلکش گلابی رنگ نرم نرم گھاس کی ہریالی سے ابھر کر آتا ہے اور پتیوں کا ہرا رنگ سرمیں پتھروں کے بیچ نمایاں ہوتا ہے. پتھر کی سختی پتیوں کی نرمی اور کلیوں کی دلکشی کو مزید نمایاں کرتی ہیں. نرم گرم کا یہ تال میل ہیں زندگی کو حسین بناتا ہے

اگر ہر روز بھی یہاں سے گزرو تو بھی یہ ٹریک پرانا نہیں لگتا نہ ہی اکتاہٹ ہوتی ہے. اسے دیکھ کر مجھے اللہ کی قدرت نظر آتی ہے. خلق میں تصرف یاد آتا ہے. یہ جوگنگ ٹریک مجھے دن رات کی گردش اس کا گھٹنا اور بڑھنا یاد دلاتی ہے جس طرح کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں. اسی طرح اس ٹریک پر بھی کبھی گھاس زیادہ تو کبھی پھول زیادہ نظر آتے ہیں. اور کبھی دونوں یکسا. خلق میں یہ تصرف اللہ کے حکم سے ہے اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور ان کی مصلحت کے لحاظ سے ہے

پتھر گھاس اور پھول تینوں ہیں اس جاگنگ ٹریک کا حصہ ہیں کسی ایک کو پھلانگ کر میں آگے نہیں بڑھ سکتی. بالکل اسی طرح جس طرح غم اور خوشی زندگی کے سفر کا حصہ ہیں. موسم کی طرح ان کی آرجار لگی رہتی ہے

بس بات اتنی ہے کہ میں اس پورے ٹریک سے خوب واقف ہوں. شاید اسی لیے پتھروں کے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے یہ بےصبری نہیں ہوتی کہ میرے حصے پتھر کیوں. مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آگے میرے لیے پھول بھی ہیں اور جب پھولوں کے قریب آتی ہو تو بھی خوب جانتی ہوں کہ یہ پھول بھی فانی ہیں. بہت جلد یہ مٹی ہو کر زمین بن جائیں گے

بڑی عجیب بات ہے کہ زندگی کے ساتھ ہمارا معاملہ ایسا نہیں ہوتا غم پر وہ وا بیلا ہوتا ہے کہ جیسے یہ گزرے گا ہی نہیں اور خوشی ملتی ہے تو پھول کر وہ حال ہو جاتا ہے جیسے یہ بھی کبھی گزرے گی نہیں

کاش اس ٹریک کی طرح زندگی کے سفر سے بھی ہم خوب آشنا ہوتے تو غم پر صبر اور خوشی پر شکر کتنا آسان ہوتا. اس عارضی ٹھکانے کا سفر کتنا خوشگوار ہوجاتا

خیر میرا سفر پورا ہوا. پتھر پتیاں اور پھولوں کے ساتھ چلتے چلتے کب میرا گھر آگیا پتہ ہی نہ چلا. زندگی کا سفر بھی بس ایسے ہی پورا ہو جائے گا

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s